جمعرات والے دن اور جمعہ کی رات سمیت

by admin

تحریر
محمد آصف خان

جمعرات والے دن اور جمعہ کی رات سمیت مبارک راتوں میں روحیں گھر آتی ہیں اور اپنے پیاروں سے صدقہ خیرات و دعاوں کی امید رکھتی ہیں اور اپنے پیاروں سے گفتگو بھی کرتی ہیں

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں : دربعضے روایات آمدہ است کہ ارواح میت می آید خانہ خود راشب جمعہ پس نظرمی کند کہ تصدق می کنند ازوے یانہ۔
بعض روایات میں منقول ہے کہ جمعہ کی رات میت کی روح اپنے گھر آتی ہے اور دیکھتی ہیں کہ اس کی طرف سے صدقہ کیا گیا ہے یانہیں۔ (؎ اشعہ اللمعات باب زیارت القبور مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۷۔ ۷۱۶)
دقائق الاخبار مصنفہ حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ میں ہے: ”حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ جس دن ہوتا ہے دن عید کا، یاد ن جمعہ کا، یا روز عاشورہ کا، یا شب نصف شعبان، آتی ہیں روحیں مُردوں کی، اور کھڑی ہوتی ہیں اوپر اپنے گھروں کے، پس کہتی ہیں آیا ہے کوئی کہ یاد کرتاہے مجھ کو، آیا ہے کوئی کہ رحم کرے اوپر ہمارے، آیا ہے کوئی کہ یاد کرے غربت ہماری کو، اے وہ لوگو! کہ رہتے ہو تم بیچ گھروں ہمارے کے، اے لوگو! اچھے ہوئے تم ساتھ اس کے اور بدبخت ہم ساتھ اس کے ہوئے، اور اے لوگو! کھڑے ہو تم بیچ کشادہ محلوں ہمارے کے، اور ہم درمیان قبروں تنگ کے، اورآیا ہے اے لوگو! ذلیل کیا تم نے یتیموں ہمارے کو، اے لوگو! نکاح کیا تم نے ساتھ عورتوں ہماری کے، آیا ہے کہ یاد کرے کوئی بیچ غربت اور فقر ہمارے کے، اعمال نامے تمھارے کشادہ ہیں اور اعمال نامے ہمارے لپٹے گئے”(دقائق الاخبار )
اور قریب قریب روایت اسی مضمون کی کتاب دررالحسان میں امام سیوطی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نقل فرماتے ہیں: وعن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما اذا کان یوم العید ویوم العشر ویوم الجمعۃ الاولی من شھر رجب ولیلۃ النصف من شعبان ولیلۃ الجمعۃ یخرج الاموات من قبورھم ویقفون علی ابواب بیوتہم ویقولون ترحموا علینا فی اللیلۃ بصدقۃ ولوبلقمۃ من خبزفانا محتاجون الیھا فان لم یجدواشیئا یرجعون بالحسرۃ ۲؎۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے جب عید کادن، دسواں دن، ماہ رجب کاپہلا جمعہ، شب براءت (شعبان کی نصف) اور جمعہ کی رات آتی ہے تو اموات اپنی قبور سے نکل کر اپنے گھروں کے دروازوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں ہماری طرف سے اس رات صدقہ کرو اگرچہ روٹی کا ایک لقمہ ہی دو کیونکہ ہم اس کے ضرورت مندہیں اگر وہ کچھ صدقہ نہ کریں تو بڑے افسوس سے لوٹتے ہیں۔ (دررالحسان فی البعث ونعیم الجنان للسیوطی)
دستور القضاۃ مصنفہ صدرالدین رشید تبریزی میں فتاوٰی نسفیہ سے منقول ہے: ان ارواح المؤمنین یاتون فی کل لیلۃ الجمعۃ ویوم الجمعۃ فیقومون بفناء بیوتہم ثم ینادی کل واحد منہم بصوت حزین یااھلی ویا اولادی یا اقربائی اعطفوا علینا بالصدقۃ واذکرو نا ولاتنسونا وارحمونا فی غربتنا قد کان ھذا المال الذی فی ایدیکم فی ایدینا فیرجعون منہم باکیا حزینا ثم ینادی کل واحد منہم بصوت حزین اللہم قنطہم من الرحمۃ کما قنطونا من الدعاء والصدقۃ ۱؎۔ اہل ایمان کی ارواح ہر جمعہ کی رات اور دن کو اپنے گھروں کے صحن میں آکر غمناک آواز دیتی ہیں : اےمیرے گھروالو، اے میری اولاد، اے میرے رشتہ دارو، ہم پر صدقہ کرکے مہربانی کرو، ہمیں یاد رکھو، ہمیں بھول نہ جاؤ، ہماری غربت پر رحم کرو، یہ مال جو تمھارے ہاتھوں میں ہے یہ کبھی ہمارے پاس بھی تھا پھر وہ غمگین روتے ہوئے واپس جاتے ہیں، پھر ان میں سے ہر کوئی غمگین آواز سے کہتاہے اے اللہ! ان کو رحمت سے اسی طرح دور فرما جس طرح انھوں نے ہمیں دعا وصدقہ سے مایوس کیا ہے۔ (دستور القضاۃ صدر الدین رشیدتبریزی)
اشباہ والنظائر احکام جمعہ میں مسطور ہے: وفیہ یجتمع الارواح ۲؎ یعنی جمعہ کے دن روحیں اکٹھی ہوتی ہیں، ( الاشباہ والنظائر باب احکام الجمعہ ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۳۹)۔۔۔۔ ماخوذ از فتاوی رضویہ

روضۃ الریاحین میں ہے: مذھب اھل السنۃ ان ارواح الموتٰی فی بعض الاوقات من علیین وسجین یاتون الی اجساد ھم فی قبورھم عند مایرید اﷲ تعالٰی خصوصا فی لیلۃ الجمعۃ ویومہا ویجلسون ویتحدثون ۳؎۔ اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ اموات کی ارواح جب اللہ تعالٰی چاہتاہے علیین اور سجین سے اپنےاجسام کی طرف آتی ہیں خصوصا جمعہ کی رات، دن میں آپس میں بیٹھ کر گفتگو کرتی ہیں(ت)

(۳؎ روضۃ الریاحین)

Related Posts

Leave a Comment

Translate »