عجیب لوگوں کا معاشرہ

by admin

(عجیب لوگوں کا معاشرہ)
کالم۔نگار میر آصف شاہ
عجیب لوگوں کا معاشرہ ہے نہ خود کچھ کرتے ہیں اور نہ ہی کسی بڑے قدم کی پذیرائی کرتے ہیں اور نہ ہیرو پیدا ہونے دیتے ہیں صدپارہ صاحب جیسے ہیروز پر بھی دبے دبے الفاظ میں تنقید شروع ہوگئی ہے کہا جارہا ہے کہ فضول میں جان کو خطرے میں ڈالا گیا اس “فضولیات” کی صرف ایک جہت کا ذکر کرتا چلوں اس مہم میں کم سے کم 60 کے قریب غیر ملکی حصہ لے رہے ہیں جن میں سے تین جان کی بازی ہار چکے ہیں اور یہ تین لاپتہ ہیں کے ٹو اور اس جیسی دوسری چوٹیاں جیسے کہ نانگا پربت، براڈ پیک وغیرہ کو سر کرنے کے لیے حکومت پاکستان سے پرمٹ لینا پڑتا ہے جس کی فیس لاکھوں میں ہے۔ یہ فیس فارن ریمیٹنس کی صورت میں اس غریب ملک کے خزانوں میں آتی ہےآپ کے ملک کے لیے یہ فارن ریمیٹنس آکسیجن کا درجہ رکھتی ہےاس طرح کے کوہ پیماؤں کے سوشل میڈیا پر ہزاروں لاکھوں فالوورز ہوتے ہیں۔ جب ایسی مہم انڈر پراگریس ہوتی ہیں تو دنیا بھر کے میڈیا میں پاکستان ڈسکس ہوتا ہے۔ دنیا میں ایک مثبت پرسیپشن بنتا ہے۔ کتنے ہی افراد ان سے متاثر ہوکر پاکستان کا رخ کرتے ہیں جس سے سیاحت، نتیجتاً قومی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہےصدپارہ جیسے ہیروز کے اس قدم کی وجہ سے پاکستان کا کتنا مثبت امیج گیا۔ وہ انسان اپنی جان کو داؤ پر لگا کر اس ملک کو کتنا کچھ دے گیا۔ مستقبل میں ان چوٹیوں کو دیکھنے، انھیں سر کرنے کتنے ہی لوگ آیا کریں گے۔ اللّٰہ صدپارہ صاحب کی حفاظت فرمائے۔ بحیثیت قوم ہم انکے مقروض ہیں حضرات، اکانومی اب بہت جدید ہوچکی ہے۔ یہ روٹی، کپڑا، مصالحے بیچنے سے بہت آگے نکل چکی ہے
آج کی دنیا میں برانڈ پرسیپشن انتہائی اہم ہے۔ دنیا اپنے ہیروز کو برانڈ کرتی ہے۔ صرف ایک سچن ٹنڈولکر کے کیرئیر نے، بھارت میں کرکٹ کو بدل کر رکھ دیا۔ بھارتیوں میں اعتماد بھر دیا۔ کرکٹ کے دم پر بھارت نے کتنی قومی آمدنی پیدا کی، اسکا حساب کرنا مشکل ہے کیا کسی بھارتی نے شکایت کی کہ ٹنڈولکر کی سینچریوں کا کیا فائدہ ہوا ٹنڈولکر نے تو اپنی جان داؤ پر نہیں لگائی، صدپارہ صاحب نے لگائی ہے۔ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کس حال میں ہیں۔ ویسی یہ قوم ہیروز پیدا نہیں کررہی۔ سب اپنی لگی بندھی روٹین لائف میں لگے ہوئے ہیں۔ اپنے ہیروز کی قدر کرنا سیکھیں۔ ایک اور بات کہ وضاحت کرتا چلوں۔ انسانی تجسس کی قدر کیجیے۔ ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کیجیے جہاں انسان کسی مقصد یا بناء کسی ظاہری مقصد کے اپنے کسی تجسس کو کھوجے۔ اسکے پیچھے اپنا وقت انویسٹ کرے۔ رائٹ برادران نے اپنے اڑنے کے خواب اور تجسس اور کے ہاتھوں پہلا جہاز بنایا اور اپنے اسی passion کو پورا کرنے کی کوشش میں مارے گئے۔
جو لوگ خواب دیکھتے ہیں، تجسس کو پالتے پوستے ہیں اور انکی تکمیل کے لیے لگی بندھی روٹین لا

Related Posts

Leave a Comment

Translate »