173.82.245.150 United States

06-Jul-2021

ہر بندہ یہی سوچتا ہے

by admin

(ہر بندہ یہی سوچتا ہے)
(کالم نگار وصی احمد)
آج کل کے دور میں ہر بندہ یہی سوچتا ہے میرے اچھا سوچنے سے کچھ بدلنے والا نہیں کلمہ کی بنیاد پر بننے والا یہ ملک ہے پاکستان جس میں 99 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے بات تلخ ہے پر ہے حقیقت اس ملک پاکستان میں نام کے مسلمان باقی ہیں پوری دنیا میں کسی ملک میں ایسے دل کو چیر دینے والے واقعات رونما نہیں ہوتے یہاں تک کہ جو ملک آزاد نہیں ہوئے وہاں بھی ایسے واقعات رونما نہیں ہوتےاس اسلامی ملک کے پاکستان میں ہو رہے ہیں تین تین چار چار سال کے بچوں کے ساتھ زیادتی پھر قتل آئے دن ریپ کی وارداتیں کیا کچھ نہیں ہورہا اسلامی ملک میں اور یہ سب واقعات غریب افراد کے ساتھ ہی ہوئے کبھی یہ آپ نے سنا کسی امیر کی بچی یا بچے کے ساتھ ایسا کچھ ہوا کیا ہم وہی مسلمان ہیں جو موت کو اپنی زندگی مانتے تھے جو کہتے تھے موت کے بعد اصل زندگی شروع ہونی ہے آج مسلمان کدھر کھڑا ہے پورے ملک کے اداروں میں رشوت کا بازار سرگرم ہے کوئی ایک ادارہ ایسا بتا دیا جائے کرپشن سے پاک ہو کیوں ہمارے ملک کا قانون غریب کیلئے الگ ہے اور امیر کے لیے الگ ہے چند سرفروش صحافی جن کے اندر انسانیت ابھی باقی ہے حقائق سے آگاہ کرتے رہتے ہیں پر پر ان کا یہ سچ ان کو ہی لے ڈوبتا ہے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ہم لوگوں کے اندر اس بات کا احساس ختم ہو چکا ہے کہ آنے والی ہماری نسلیں جن کو ہم نے تباہی کے اس مقام پر لا کر کھڑا کر دیا ہے جو پیدا ہوتے ہی غلام ہوں گے کیا وہ ہمیں کبھی معاف کر پائیں گے کیا امیر ایسے ہی ملک پر حکومت کرتے رہیں گے پوری پاکستانی عوام کو بھی پتا ہے یہ جتنے امیر سیاست دان بیٹھے ہوئے ہیں انہوں نے ہمارا اور ہمارے بچوں کا خون چوسا پھر یہ امیر ہوئے خدارا اس ملک کو انقلاب کی ضرورت ہے تاریخ سے پتہ چلتا ھے کہ انقلاب کے معاملے میں برصغیر بانجھ ھے ، ھمیشہ بیرونی حملہ آوروں کا انتظار کیا جاتا ھے ، کبھی غوری کا تو کبھی غزنوی کا ، قومی سوچ یا خمیر میں انقلابی سوچ ھی نہیں کیوں کہ ہم لوگ اب برائے نام مسلمان رہ گئے ہیں جہاد کے لئے تو ہر وقت ہم بڑھکے مارتے رہتے ہیں اور مر مٹنے کو تیار رہتے ہیں یہ عوام کیا جہاد کرے گی جو اپنے حق کے لیے آواز بلند نہیں کر سکتے وہ جہاد کیا کریں گے باتیں بہت تلخ اور حقیقت پر مبنی ہے اور بھی جن کو بیان کرنا اس پاکستان میں جرم بن جاتا ہے خدارا اپنے موبائل سے نکلے اپنا اور اپنے آنے والی نسل کا خیال کریں .

Related Posts

Leave a Comment

Translate »