Kashmir Ki Ahmiat or aazadi

by admin

خطئہ کشمیر کی اہمیت اور آزادی
کالم نگار فراز قریشی
خطۂ کشمیر میں سب سے پہلے مسلمان سید شرف الدین عبدالرحمنؒ عرف بلبل شاہ یا بلاول شاہ نے یہاں قدم رکھا۔ اُن کے نام پر سری نگر میں آج ایک محلہ اور مسجد کا نام موجود ہے۔ اُن کے ہاتھ پر والیِ کشمیر رینٹچن نے کلمۂ اسلام پڑھا اور اپنا نام صدرالدین رکھا، اس کے بعد پانچ سو سال تک مسلمانوں نے کشمیر پر حکومت کی۔ اس کے بعد سکھوں نے اس خطہ پر قبضہ کیا، پھرسکھوں سے اس ملک کو انگریزوں نے چھینا۔ انگریزوں کو تاوان ادا کرکے ڈوگرہ قوم نے کشمیر کو ایک سو سال تک اپنے تسلُّط میں رکھا، انہیں ڈوگروں نے مسلمانوں پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑے، جس کی بناپر 1931ء میں مجلسِ احرارِ اسلام نے حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری قدس سرہٗ اور دوسرے اکابر زعماء کی قیادت میں اُن کے خلاف اعلانِ جنگ کیا اور کشمیر چلو تحریک چلائی، جس کے تحت چالیس ہزار کے قریب رضاکاروں نے کشمیر پہنچ کر اپنے کشمیری بھائیوں کی حمایت میں خود کو قیدوبند کے لیے پیش کیا، اس تحریک کے نتیجہ میں کشمیر میں سیاسی بیداری پیدا ہوئی۔
اسی اثناء میں ہندوستان تقسیم ہوا اور ملکِ پاکستان وجود میں آیا۔ تقسیم کے وقت آزاد ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ جس ملک کے ساتھ اِلحاق کرنا چاہیں ان کو اختیار ہے۔ مہاراجہ ہری سنگھ جو اس وقت کشمیر کا حکمران تھا، اس نے کشمیر کی اکثریتی مسلمان قوم کی مرضی کے برعکس ہندوستان کے ساتھ اِلحاق کا فیصلہ کیا۔ مسلمانوں نے اس پر زبردست احتجاج اور علماء کرام نے جہاد کا فتویٰ دیا۔ مسلمانوں نے سری نگر کی طرف یلغار کردی۔ اقوام متحدہ نے مداخلت کی اور یہ کہہ کر جنگ بندی کرادی کہ مذاکرات کے ذریعہ عوام کا یہ حق تسلیم ہے کہ انہیں آزادانہ استصوابِ رائے کے ذریعہ اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے۔ تب سے بھارت کشمیر پر طاقت کے زور سے قابض ہے اور کشمیری عوام کو حقِ خود اِرادیت دینے سے انکاری ہے، آج ستر سال ہوگئے، جب سے اقوامِ متحدہ اور عالمی طاقتیں خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں، اور کشمیری عوام اپنی آزادی اور خود مختاری کے لیے مسلسل قربانیاں پیش کررہے ہیں پاکستان ہمیشہ سے اس دشمن ملک کے خطرے سے محفوظ رہتا آزادیِ وطن اور قوم کے لیے جنگ کرنا اس سے مراد یہ ہے کہ ایک ملک پہلے مسلمانوں کے قبضہ میں تھا، اس کے بعد کسی وجہ سے اس پر کافروں کا تسلط ہوگیا اور وہاں کی مسلم آبادی کفار کی رعیت اور غلام بن گئی اور انہوں نے جس طرح چاہا، ان کے مال وجان میں تصرف کرنا شروع کردیا۔ اب اس وطن کو پھر سے کفار کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے جو جنگ لڑی جائے گی، اُسے قومی اور وطنی جنگ نہیں کہا جائے گا، بلکہ قرآن مجید کی اصطلاح میں وہ جنگ بھی ’’قتال فی سبیل اللہ‘‘ کے مقدس نام سے یاد ہوگی۔ کیونکہ مسلم قوم کی دنیا ‘ دین سے کوئی الگ چیز نہیں، بلکہ دونوں کے درمیان ایک ناقابلِ رابطہ ہے۔ ایک کی زندگی دوسری کی زندگی پر موقوف ہے، جیسے روح اور بدن کا تعلق ہے۔ اگر مسلم قوم کے ہاتھ سے اس کا ملک نکل جائے اور اس پر کفار قابض ہوجائیں تو اس کے ساتھ ہی اس کا دین مفلوج ہوجاتا ہے، اس لیے اس وطن کا کفار سے نجات دلانا ہر قیمت پر مسلم قوم کے تمام مذہبی فرائض میں سے اہم فریضہ ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید میں اس کی مثال جالوت اور طالوت کے قصہ میں ملتی ہے۔ایک مظلوم اور بے بس مسلم قوم کو حکومت کی غلامی اور استبداد سے نجات دلانے کی خاطر جو جنگ لڑی جائے گی، وہ بھی سب سے بڑا جہاد فی سبیل اللہ کہلائے گی اور اس کے اندر لڑنے والے ان تمام نوازشات اور مبشرات کے مستحق ہوںگے، جو قرآن مجید نے مجاہدینِ ابرار اور شہدائے صداقت شعار کے لیے مخصوص اور موعود فرمائی ہیں۔ اس کی مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعہ کے اندر آپ کو ملے گی۔ یہ سات ایسی وجوہ ہیں جن کی بناپر کشمیر کے مسلمانوں کا انڈیا کی فورسز کے خلاف لڑنا جہاد ہے اور پوری اُمتِ مسلمہ کا ان کی مدد کرنا مذہبی، سیاسی اور اخلاقی فریضہ بن جاتا ہے۔خصوصی پاکستان پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اس لیے کہ کشمیری اپنی عزت، مال، جان اور سب کچھ کی قربانیاں پاکستان ہی کے لیے دے رہے ہیں

Related Posts

Leave a Comment