173.82.245.150 United States

06-Jul-2021

Civil Society

by admin

(کالم نگار.وقار احمد)
سول سوسائٹی آف ہیومن رائٹس ادارہ برائے انسانی حقوق کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری

پاکستان کا داخلی و خارجی محلِ وقوع اور اہمیت
بے شک اللہ کریم کے پاکستان پہ بے بہا و انگنت بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ لامتناہی احسانات ہیں ساری دنیا میں ایسا محلِ وقوع ڈھونڈ نے سے نہیں ملتا جو ہماری پاک سرزمین کو عطا ہوا ہے ہمارے کشمیر و شمالی علاقہ جات بلاشبہ یورپین ممالک سے خوبصورتی اور دلکشی میں کسی طور بھی کم نہیں ہیں جہاں یہ علاقے دیکھنے اور سیر کرنے لائق ہیں وہیں کلرکہار اور کھیوڑہ کی کان بھی منفرد و دلکش اور دیکھنے لائق ہے ۔
پوٹھوہاری علاقوں کا بھی اپنا ہی حسن ہے پھر لاہور کی طرف آتے جائیں تو میدانی علاقے شروع ہوتے ہیں جن سے وافر مقدار میں ہمیں غلہ ملتا ہے بلکہ سارا پنجاب ہی ذرخیز ہے دنیا کا بہترین نہری نظام بھی پنجاب کا حصہ ہےاور پنجاب کی آخری حد سے یعنی رحیم یار خاں سے چولستان کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے جو بتدریج آگے بڑھتا ہوا تھر کہلاتا ہے اور صوبہ سندھ کا حصہ ہے اسی ریگستان کو بھارت میں راجھستان کہتے ہیں صوبہ سندھ لمبائی کے رخ مغرب کی جانب ساحلِ سمندر تک پھیل جاتا ہے اور اسی طرح صوبہ بلوچستان بھی صوبہ سندھ کے متوازی لمبائی کے رخ جانبِ مغرب گوادر تک پھیلا ہوا ہے یعنی گوادر اور کراچی ایک ہی ساحلی پٹی پر واقع ہیں ،صو بہ سندھ زرخیز ہے تو صوبہ بلوچستان معدنی دولت سے مالا مال ہے اور بلوچستان کی سوئی گیس و ریکوڈک ذخائر سے کون واقف نہیں (بلوچستان کے بعض علاقوں میں نایاب کوئلہ بھی دریافت ہوچکا ہے) اور بالکل اسی طرح چولستان و تھر کوئلے سے مالا مال ہیں بلوچستان اور سندھ ایک دوسرے کے متوازی چلتے ہوئے ساحل سمندر پر ایک ہی پٹی پر واقع ہونے کے باوجود خشکی کے لحاظ سے بالکل مختلف ماہیت کے حامل ہیں سندھ ذرخیز ہے تو بلوچستان #اور چٹیل پہاڑوں کا مجموعہ ہے
کہیں میدانی ،کہیں بارانی،کہیں سنگلاخ پہاڑی سلسلے تو کہیں لق و دق صحرا سے مزین یہ پاک سرزمین ساری دنیا مین منفرد و نایاب مقام کی حامل ہے جس میں ہر سال چار موسم یکے بعد دیگرے اپنے اپنے وقت پہ مادرِوطن کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ پاکستان کا رقبہ چین سے شروع ہوکر بھارت اور افغانستان کو چیرتا ہوا سیدھا جانبِ مغرب سمندر کی طرف بڑھتا ہے جس کے آغاز میں بھی پہاڑ ہیں اور اختتام میں بھی پہاڑ اور سمندر ہے،جہاں شمالی علاقہ جات کے چترال و کاغان ،سیاحوں کے لیے پرکشش ہیں وہیں پسنی ،گوادر اور پاکستانی سمندری حدود کے اکثر جزیرے بھی سیاحوں اور سیلانی طبع کے لوگوں کے لیے بے انتہا پرکشش ہیں گر سیاحوں کے لیے محفوظ رسائی ممکن بنائی جائے تو حکومت پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافہ لازمی ہے لیکن کسی بھی حکومت کے دور میں ان سیاحتی مقامات کو اپ گریڈ کرنے یا بہتر حفاظتی اقدامات کرنے کا سوچا نہیں گیا۔
داخلی لحاظ سے تو ہم خوش قسمت ہیں ہی اسی طرح خارجی لحاظ سے بھی ہم دنیا کے جس خطے میں واقع ہیں یہ بھی بڑی ہی سٹریٹجک اور مضبوط لوکیشن ہے بلکہ گر میں کہوں کہ ہمارا خطہ ہی بڑا سٹریٹجک خطہ ہے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ یہ مختصر سا خطہ ایٹومک پاورز کا سنگم ہے جس میں سارے ہمسایہ ممالک روس ،ایران،چین ،بھارت اور ہمارا پاکستان وقتِ حاضر کی ایٹمی طاقتیں ہیں(ماسوائے افغانستان کے)اور بیک وقت تین ہمسایہ ایٹومک پاورز ایک ہی ساحلی پٹی کا حصہ بھی ہیں(بھارت،پاکستان اور ایران)،ساری دنیا میں ایک ہی خطے میں اتنی تعداد میں کوئی بھی ہمسایہ ممالک اس حد تک طاقتور نہیں ہیں اور دیکھا جائے تو مغرب کی ہمارے خطے کے ہی ہمسایہ ممالک سے بنتی نظر بھی نہیں آتی (ماسوائے بھارت کے) روس ،ایران اور چائنہ کے علاوہ ہمارے ساتھ بھی اکثر امریکہ کی بنتی بگڑتی رہتی ہے بشمول ہمارے ملک کے باقی ہمسایہ ممالک کو بھی یہ اچھی طرح ادراک ہو چکا ہے کہ امریکہ بناء کسی ذاتی مفاد کے کسی بھی ملک سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور آ،جا کے امریکہ اور اس کے حواری ہمارے خطے میں ہی بو سونگھتے دکھائی دیتے ہیں یعنی دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے پہلے پہل انکل سام مشرقِ وسطیٰ کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑا رہا جس کی بدولت مشرق وسطی کی کچھ ریاستیں تباہ ہوگئیں اور جو بچ گئیں ہیں وہ خانہ جنگی کا شکار ہیں اب تو ایسے لگتا ہے جیسے انکل سام مشرق وسطی میں اپنی محنت سے فارغ ہوکر ہمارے خطے کی طرف نیت باندھ چکا ہے امریکہ اپنے ٹرمپ کے بیانات کو ،،جوکر،، سے تعبیر کر کے سارے گھٹیا کام نکال رہا ہے جو شائد وہ کسی شریف صدر (ہیلری کلنٹن) کے دور میں ممکن نہیں ہوسکتا تھایعنی کہ اب بالکل واضح دکھائی دے رہا ہے کہ ٹرمپ کارڈ کھیلا جارہا ہے چونکہ مسلمان فراخ دل اور…

Related Posts

Leave a Comment

Translate »